Mah-e-Rooh by Momina Azam complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.
Momina Azam is an emerging new writer and it's her new novel that is being written for our platform. She has written many famous novels for her readers. These novels will surely grab your attention. Readers like to read her novels because of her unique writing style.
Mah-e-Rooh by Momina Azam complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.
Momina Azam All Novels Link
How To Download
All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.
1. You will see 3 download links in every post. Click it any of them.
5. You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.
6. Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.
If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.
Short Scens
۔"میں
کہاں ہوں؟ اور آپ۔۔آپ ثمینہ آنٹی ہیں ناں۔" اس نے اٹھ کر بیٹھتے ہوئے ان سے پوچھا۔"
جی میری پیاری بیٹی میں تمہاری ثمینہ آنٹی ہوں اور تم اسوقت پاکستان میں ہو۔"
انہوں نے اسکا ہاتھ چومتے ہوئے کہا۔
"تمہیں
میرا بیٹا عرفات یہاں لے کر آیا ہے۔وہی مسجد والا لڑکا۔"ثمینہ خان کے بتانے پر
وہ بے اختیار ان کے گلے لگ کر رونے لگی۔
"بیٹی
تم بالکل میری پیاری دوست سویرا جیسی ہو۔"انہوں نے بھی بھرائی آواز میں اسے گلے
لگاتےہوئے بولا۔
اسی
وقت دروازے پر دستک ہوئی ۔اسنے اپنا دوپٹہ صحیح سے اوڑھا۔عرفان خان اجازت لے کر اندر
داخل ہوئے۔انہوں نے ماہِ روح کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھا۔
"کیسی
ہیں میری بیٹی؟ "
"
جی میں بالکل ٹھیک ہوں انکل۔"ماہِ روح نے آنکھ سے نکلے آنسوؤں کو صاف کرتے ہوئےکہا۔
" انکل نہیں بابا بولو بیٹی۔آپ جانتی ہو آپ کا نام
ماہِ روح میں نے رکھا تھا۔ آپ اگر مجھے اور ثمینہ کو ماما بابا بولو گی تو ہمیں بہت
خوشی ہوگی۔" انہوں نے شفقت سے کہا۔
"
جی بابا۔" اسنے روتے ہوئے ان کے گلے لگ کر کہا۔
تھوڑی
دیر بعد عرفان خان جب چلے گئے تو ثمینہ خان نے ماہِ روح کو تمام واقعہ سنایا اور اسے
بتایا کہ عرفات اسے کیسے یہاں لایا تھا۔
انہوں
نے ماہِ روح کو مزید یہ بھی بتایا کہ عرفان خان اور وہ چاہتے ہیں کہ عرفات اور ماہِ
روح کا نکاح کر دیاجائے ۔انہوں نے ماہِ روح سے اس کی مرضی پوچھی تو اس نے اثبات میں
سر ہلا دیا۔
ثمینہ
خان جاچکی تھیں۔ ماہِ روح کمرے میں اکیلی بیٹھی رو رہی تھی کیونکہ اس نے کبھی تصور
بھی نہیں کیا تھا کہ اسکی زندگی کے اتنے بڑے دن پر اسکے والدین اس کے پاس نہیں ہونگے۔
دروازے
پر دستک ہوئی اور فاتحہ اور صالحہ اندر آئیں۔
"السلام علیکم! ہونے والی بھابھی کیسی ہیں آپ؟
ہم دونوں آپکی نندیں ہیں میرا نام فاتحہ ہے اور یہ میری چھوٹی بہن صالحہ ہے۔"
آنزہ نے ماہِ روح کو گلے لگاتے ہوئے کہا۔ ماہِ روح آنسو صاف کرتے ہوئے مسکرا دی۔
"
ارے تھوڑی دیر بعد ہونے والی بھابھی آپ رو رہی ہیں؟ آپ پریشان نہ ہوں شادی کے بعد اگر
بھائی نے کبھی آپ کو تنگ کیا نا تو ہم دونوں ہیں ہم انہیں ٹھیک کر کے رکھ دیں گے۔"صالحہ
نے ماہِ روح کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔
ماہِ
روح صالحہ کی باتیں اور ان عجیب القابات کو سن کر ہنس دی۔
" ارے میں تو بھول ہی گئی امی نے ہمیں آپ کو تیار کرنے کیلئے بھیجا تھا۔ آپ جلدی سے یہ کپڑے لیں اور چینج کر لیں۔"فاتحہ نے سرخ رنگ کا جوڑا ماہِ روح کو تھماتے ہوئے کہا۔ وہ اٹھ کر چینج کرنے چلی گئی۔
Click the link below to download this novel in pdf.
Mah-e-Rooh by Momina Azam Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com

0 comments:
Post a Comment