Mukamal chat ka azam by Javeriya Khan
Short Scens
"میں۔۔۔
میں کوئی غلط لڑکی نہیں ہوں جی! میں اپنے کالج کی پوزیشن ہولڈر طالبہ ہوں، مجھے اسکالرشپ
ملی ہوئی ہے۔ میں گھر سے بھاگی نہیں ہوں، مجھے دادی نے۔۔۔"
وہ
کہتے کہتے رک گئی، اس کا گلا رُندھ گیا اور وہ مزید کچھ نہ کہہ سکی۔
عدینہ
کو یوں بے حال دیکھ کر انہوں نے محبت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور نرمی سے بولیں:
"بیٹی! میرا نام نِہت ہے۔۔۔ تم بتاؤ، تمہارا نام کیا ہے؟"
عدینہ
نے اپنے آنسوؤں کو حلق میں اتارتے ہوئے آہستہ سے کہا: "عدینہ۔۔۔"
خاتون
یعنی نِہت بیگم کے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ ابھری، وہ بولیں: "ماشاءاللہ،
تمہارا نام بہت پیارا ہے۔"
یہ
سنتے ہی عدینہ کے چہرے پر ایک لمحے کے لیے اپنے ماضی کی جھلک آئی اور وہ فوراً بول
اٹھی: "میری امی نے رکھا تھا یہ نام۔۔۔"
لیکن
یہ جملہ بول کر وہ ایک دم خود ہی چپ ہو گئی۔ اس کے رکے ہوئے آنسو اب ایک بار پھر اس
کی آنکھوں میں چمکنے لگے تھے۔ ماضی کی وہ تمام تلخیاں اور ماں کی یاد اس کے سینے میں
ابل پڑی۔ اس نے نظریں جھکائیں اور اب کی بار اس کی آواز اور بھی دھیمی ہو گئی تھی:
"میری امی اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔۔۔"
عدینہ
کے منہ سے یہ معصومانہ اور درد بھرا جملہ سن کر نِہت بیگم کا دل بھر آیا اور انہیں
اس بچی کی حالت دیکھ کر بہت افسوس ہوا۔
ہت
بیگم نے جب اس کا یہ دکھ دیکھا، تو انہوں نے فوراً ہمدردی سے کہا: "بیٹی! تم میرے
ساتھ چلو۔"
Click the link below to download this novel in pdf.
Mukamal chat ka azam by Javeriya Khan Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com

0 comments:
Post a Comment