Aakhri safa afsana by Rimsha Shehzadi
Download free online Urdu books pdf, Free online reading
social, romantic, Urdu novel/afsana
Aakhri safa afsana by Rimsha Shehzadi
complete in pdf.
Short Scens
تم اُسے ہر بات کیوں بتاتی ہو؟ رابیل نے کتاب بند کی
اور مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھا۔ کیونکہ وہ میرا اپنا ہے راحت نے بےاختیار سر جھٹکا
اپنا؟؟؟ وہ صرف دعوے دار ہے، رابیل! تم نے یہ کیسے مان لیا کہ وہ ساتھ بھی نبھائے گا؟
کھڑکی کے پٹ مسلسل دیوار سے ٹکرا رہے تھے۔ ہوا بارش کو دھکیل دھکیل کر کمرے میں لے
آتی، اور میز پر رکھا سفید کاغذ ہر چند لمحوں بعد نمی سے لہرا اٹھتا۔ اس نے کاغذ پر
جھکی انگلی ہٹا لی سیاہی ابھی گیلی تھی صرف ایک لفظ لکھا گیا تھا اندھیرے سے ڈوبے کمرے
میں ایک بار پھر اسکی نصیحت گونجی! مت کرو! تمہاری ذات کی کرچیاں سمیٹے نہیں سمٹیں
گی رابیل نے خط لکھنا شروع کیا تم!! لفظ مکمل ہوتے ہی کبھی کبھار نمودار ہونے والی
چڑیا یکایک پھڑ پھڑائی۔ اس نے کھڑکی کے شیشے پر چونچ ماری، پھر دوسری، پھر تیسری بار
جیسے کسی اَن دیکھی آفت سے گھبرا گئی ہو۔ رابیل نے قلم روک دیا چپ!! مگر چڑیا جیسے
اس کی آواز سن ہی نہ سکی کمرے میں رکھی روشنائی کی دوات ہلکی سی لرزی اور سیاہی کا
ایک قطرہ کاغذ پر گر پڑا۔ لفظ "تم" دھندلا گیا اسے خود بھی معلوم نہ تھا
کہ اس دن کے بعد وہ اس خط کی طرف کبھی واپس نہیں آئے گی دوسری طرف ایک بے نام دریا
خاموشی سے اپنے کناروں کو چھوتا کسی کی کل کائنات اپنے ساتھ بہا لے جا رہا تھا چند
روز تک اس نے ہر دستک کو اس کے قدموں کی آہٹ سمجھا۔ ڈاکیے کی سائیکل گلی میں داخل ہوتی
تو اس کا دل انجانے خوف اور امید کے درمیان کہیں ٹھہر جاتا۔
Click the link below to download this novel in pdf.
Aakhri safa afsana by Rimsha Shehzadi Online Reading
If you still have any problem in downloading plz let us know here.
WhatsApp : 03335586927
Email : aatish2kx@gmail.com

0 comments:
Post a Comment