Foladi Jazba by Nawaz Mughal Complete novel


Foladi Jazba by Nawaz Mughal complete novel. The novel is publishing on group of Prime Urdu Novels. Prime Urdu Novels promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We gives a platform to new writers to write and show the power of their words.

Foladi Jazba by Nawaz Mughal complete novel is available to download in pdf and online reading. Click the links below to download pdf or free online reading this novel. For better result click on the image to zoom it.
If you like to read other novels of the writer plz click the link below.

Nawaz Mughal All Novels Link

How To Download

All novels on the website are available in pdf that can be downloaded in few easy steps mention below.

1.    You will see 3 download links in every post. Click it any of them.

5.    You will see mediafire download page and here click on download button. Your file will start to download and will be saved in your device download folder.

6.    Open your pdf file from your device and enjoy reading it off line.

If you have any difficulty about downloding or reading this novel plz let us know on our social media accounts. You can also comment below to send us your your sugestions and ideas. We will be happy to hear you and reply you as soon as possible.

Short Scens

لائٹر ابھی بھی مٹھی میں تھا۔ گرم۔

وہ ایک پل دروازے پر پیشانی ٹکا کر کھڑی رہی۔ اندر سے دھویں اور جلے ہوئے گوشت کی بو آ رہی تھی۔

وہ اوپر آئی۔ تہ خانے کا دروازہ بند کیا۔ وہ یہاں سے وہاں ٹہلنے لگی۔ جیسے پنجرے میں قید کوئی جانور۔

اس کا سانس پھول رہا تھا۔ دل ایسے دھڑک رہا تھا جیسے ابھی سینہ پھاڑ دے گا۔

ہتھیلیاں پسینے سے بھیگ چکی تھیں۔

"میں نے کیا کر دیا... میں نے کیا کر دیا..."

وہ بار یہی بڑبڑا رہی تھی۔

اچانک وہ رکی۔ موبائل اٹھایا۔ کانپتے ہاتھوں سے نمبر ملایا۔

"ابا... ابا..."

فون اٹھتے ہی وہ چیخ پڑی۔

ادھر سے بھاری آواز آئی۔

"کیا ہوا فوزیہ؟"

"آپ... آپ فوراً آئیں۔ پلیز۔ مجھ سے کچھ بہت بڑا ہو گیا ہے۔"

اس کی آواز ٹوٹ رہی تھی۔

آدھے گھنٹے بعد۔

جہانگیر طوفان کی طرح بنگلے میں داخل ہوا۔ چہرہ غصے سے سرخ۔

"یہ کیا کیا تم نے فوزیہ؟"

اس نے بیٹی کو اوپر سے نیچے دیکھا۔ بال بکھرے، کپڑوں پر مٹی، آنکھیں سوجی ہوئی۔

فوزیہ گھٹنوں کے بل گر پڑی۔ سب اگل دیا۔

تہ خانہ۔ کارتک۔ پیسے۔ آگ۔ عشرت...

جہانگیر سنتا گیا۔ اس کا جبڑا بھینچتا گیا۔

"تم نے... تم نے اپنی دوست کو بیچ دیا؟ اور پھر جلا دیا؟ پاگل ہو گئی ہو تم؟"

فوزیہ سسک پڑی۔

 "بابا میں ڈر گئی تھی... وہ پیسے... ہماری زندگی بدل جاتی..."

جہانگیر نے ایک لمحہ آنکھیں بند کیں۔ پھر کھولیں۔

اس کی آنکھوں میں اب غصہ نہیں... خوف تھا۔

"اٹھو۔"

اس کی آواز برف تھی۔

"اپنا سامان باندھو۔ ابھی۔ اسی وقت۔"

فوزیہ نے سر اٹھایا۔ "کیا؟"

"میں نے کہا سامان باندھو!"

وہ دھاڑا۔

"ہم آج ہی یہ بنگلہ بیچ کر نکل رہے ہیں اس شہر سے۔ پولیس کو اگر بھنک پڑ گئی تو ہم سب جیل میں ہوں گے۔ کوئی ثبوت نہیں چھوڑنا۔"

 

---

 

وہ بھاگتی ہوئی گیٹ کے پاس آئی۔ اور اس کی نظر فرش پر پڑی۔

عشرت کی ڈائری۔

وہیں پڑی تھی۔ جہاں سے ہاتھ سے چھوٹ کر گری تھی۔

فوزیہ کا سانس رک گیا۔

اس نے ڈائری اٹھائی۔ کھولنے لگی... پر پھر جلدی سے بند کر دی۔

"اب اس کا کیا کروں؟"

وہ خود سے بولی۔

وہ اوپر دوڑی۔ اپنے کمرے میں۔ اِدھر اُدھر  دیکھا۔ کوئی جگہ نہیں مل رہی تھی۔

وقت نہیں تھا۔

اس نے جلدی سے تکیے کا کور کھولا۔ ڈائری اندر ٹھونس دی۔ اور کور واپس لگا دیا۔

جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

پھر وہ نیچے بھاگی۔ عشرت کا وہ آخری خط اٹھایا۔ جو اس نے تہ خانے میں لکھوایا تھا۔

اور بغیر پلٹے... بنگلے سے باہر نکل گئی۔

رات کے 2 بجے۔

بڑا سفید بنگلہ... راتو رات خالی ہو گیا۔

گاڑی کی لائٹس اندھیرے میں گم ہو گئیں۔

اور بنگلے میں بیٹھا

فولاد۔

خاموش۔ آنکھیں کھلی ہوئیں۔

اس نے سب دیکھا۔

فوزیہ کا بھاگنا۔ سامان۔ گاڑیاں۔ تالا لگنا۔

اس نے ایک بار بولنا چاہا۔ پر آواز گلے میں ہی گھٹ گئی۔

صرف وہ ڈائری... تکیے کے اندر... گواہ بن کر رہ گئی تھی۔ 

Click the link below to download this novel in pdf.


DOWNLOAD LINK


Foladi Jazba by Nawaz MughalOnline Reading

If you still have any problem in downloading plz let us know here.

WhatsApp : 03335586927

Email : aatish2kx@gmail.com

Share on Google Plus

About Imran Ali

    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments:

Post a Comment